11 جنوری 2012 - 20:30

تیونس کے صدر نے شام میں غیر ملکی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے سعودی عرب سے باضابطہ طور پر کہا ہے کہ وہ تیونس کے فراری صدر بن علی کو پناہ دینے کے بجائے اسے تیونس کی حکومت کے حوالے کردے۔

ابنا: تیونس کے صدر منصف المرزوقی  نے شام میں غیر ملکی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے سعودی عرب سے کہا ہے کہ وہ تیونس کے فراری صدر بن علی کو پناہ دینے کے بجائے اسے تیونس کی حکومت کے حوالے کردے۔ تیونس کے صدر نے سعودی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کو ظالموں، ڈکٹیروں اور چوروں کی پناہ گاہ نہیں بننا چاہیے  انھوں نے کہا کہ بن علی تیونس کے عوام کے چور ہیں اس نے تیونس کے عوام پر ظلم و ستم ڈھائے ہیں تیونس کے صدر نے کہا کہ ہم سعودی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تیونس  کے ظالم، ڈکٹیر اور چور کو تیونس کی حکومت کے حوالے کردے تاکہ تیونس کے قانون کے مطابق اس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کو اگر چور کی میزبانی کا حق ہے تو ہمیں بھی تیونس کے عوام کے اموال میں چوری کرنے والے کو واپس لینے کا حق ہے ۔

واضح رہے کہ سعودی عرب امریکہ نواز عرب ڈکٹیروں کی پناہ گاہ بن گیا ہے اور سعودی حکومت اب عالم عرب میں امریکہ نواز ڈکٹیٹروں کی بھر پور حمایت کررہی ہے سعودی حکومت نے مصری ڈکٹیٹر حسنی مبارک کو بھی بچانے کی بہت کوشش کی لیکن مصری عوام نے سعودی عرب کی کوشش کو ناکام بنادیا۔

اس وقت سعودی حکومت اپنی بادشاہت کو بچانے کے لئے بحرین اور یمن میں ڈکٹیٹروں کی مدد کررہی ہے جبکہ شا م میں بشار اسد کی  امریکہ اور اسرائيل مخالف حکومت کو گرانے کی کوشش کررہی ہے۔ البتہ شامی عوام نے سعودی عرب ، قطر ، امریکہ اور اسرائیل کی اس مشترکہ کوشش کو ناکام بنادیا ہے۔........

/169